منگل 29 ستمبر 2026 - 14:23
دکھوں کی دھوپ میں سکون کی چھاوں"بہن"

حوزہ/ بہن کا رشتہ محض خونی تعلق نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور جذباتی سہارے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ طویل مدتی نفسیاتی تحقیقات بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قریبی اور صحت مند بہن بھائی کا تعلق انسان کو ذہنی دباؤ اور زندگی کے مشکل مراحل سے نمٹنے میں اہم مدد فراہم کرسکتا ہے، جبکہ بہن کی محبت بچپن کی یادوں سے لے کر زندگی کے مختلف مراحل تک انسان کے لیے سکون اور اپنائیت کا احساس برقرار رکھتی ہے۔

تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | کچھ رشتے زندگی میں محض رشتے نہیں ہوتے، وہ زندگی کا سہارا بن جاتے ہیں۔

کچھ لوگ ہمارے ساتھ صرف وقت نہیں گزارتے بلکہ ہماری یادوں، خوشیوں، دکھوں اور خاموشیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انہی انمول رشتوں میں ایک رشتہ بہن کا ہے۔

بہن گھر کی وہ محبت ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا شاید ممکن نہیں۔ وہ کبھی ماں کی طرح فکر مند ہوتی ہے، کبھی دوست کی طرح رازدار، کبھی چھوٹی سی بات پر لڑنے والی بچی اور کبھی مشکل وقت میں ڈھال بن جانے والی ایک مضبوط ہستی۔ اس کے ساتھ بچپن کی وہ یادیں جڑی ہوتی ہیں جنہیں وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔

بھائی کے لیے بہن صرف ایک رشتہ نہیں، گھر کے گزرے ہوئے دنوں کی زندہ یاد ہوتی ہے؛ وہ اس شخص کی گواہ ہوتی ہے جو وہ کبھی بچپن میں تھا، ان شرارتوں کی ساتھی ہوتی ہے جن کا ذکر آج بھی مسکراہٹ لے آتا ہے، اور ان دکھوں کی امین ہوتی ہے جنہیں شاید دنیا کے سامنے کبھی بیان نہ کیا گیا ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب سائنس بھی اس خوبصورت رشتے کی اہمیت کو اپنے انداز میں تسلیم کر رہی ہے۔

۸۵ سالہ تحقیق: بہن ذہنی صحت کے لیے قدرتی دوا

تحقیقات کے مطابق، زندگی کے ہنگاموں اور روزمرہ کے دباؤ کے درمیان ہم سب کسی ایسے محفوظ مقام کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں ذہنی تھکن کچھ دیر کے لیے اتر سکے اور دل کو سکون مل سکے۔

شاید یہ بات حیران کن ہو کہ دنیا کی مؤثر ترین اینٹی ڈپریسنٹ ادویات میں سے ایک ایسی بھی ہے جو کسی دواخانے میں نہیں ملتی اور جس کے لیے ڈاکٹر کے نسخے کی بھی ضرورت نہیں۔

یہ ’’دوا‘‘ دراصل ایک محبت کرنے والی بہن ہے۔

بظاہر یہ بات محض جذباتی یا شاعرانہ اظہار محسوس ہوسکتی ہے، لیکن نفسیات اور اعصابی علوم نے بھی بہن بھائی کے رشتے کے ذہنی صحت پر اثرات کا مطالعہ کیا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک طویل مدتی تحقیق، جو تقریباً ۸۵ برس پر محیط رہی، نے ان عوامل کا جائزہ لیا جو انسان کو افسردگی اور ذہنی مشکلات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے تناظر میں بہن کا وجود اور بہن بھائی کا قریبی تعلق ذہنی صحت کے لیے اہم سماجی سہارا قرار پاتا ہے۔

سکون کی کیمسٹری؛ جب بہن ذہن کے تناؤ کو کم کرتی ہے

انسانی جسم ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام ہے، لیکن محبت، قربت اور سماجی تعلقات اس نظام پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

ہارورڈ کی تحقیق کے مطابق، ایک قریبی اور محبت بھرا بہن کا رشتہ کورٹیسول یعنی تناؤ سے وابستہ ہارمون کی سطح کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب محبت اور قربت سے وابستہ آکسی ٹوسن اور خوشی و تحریک سے متعلق ڈوپامین جیسے کیمیائی مادوں کا اخراج بھی انسانی احساسات پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

لیکن اس رشتے کی اصل اہمیت مشکل وقت میں سامنے آتی ہے۔

زندگی جب اچانک طوفان بن جائے، مشکلات ایک کے بعد ایک سامنے آنے لگیں اور انسان کو محسوس ہو کہ وہ اس بوجھ کو تنہا نہیں اٹھا سکتا، تو ایک مخلص بہن کسی بیرونی اعصابی و جذباتی سہارا کی طرح کردار ادا کرسکتی ہے۔

سادہ الفاظ میں، جب زندگی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے تو انسان کا ذہن ہر بوجھ اکیلے نہیں اٹھاتا؛ ایک ہمدرد بہن کی موجودگی اس ذہنی بوجھ کو بانٹنے اور بحران سے نکلنے میں مدد دیتی ہے۔

کبھی کبھی صرف یہ احساس کہ

’’کوئی ہے جو میرے دکھ کو سمجھے گا‘‘

انسان کے اندر دوبارہ جینے کی قوت پیدا کردیتا ہے۔

آخر بہن کا رشتہ اتنا منفرد کیوں ہے؟

اس گہرے تعلق کا راز ایک مشترکہ تاریخ میں پوشیدہ ہے۔

بہن وہ ذات ہے جو اسی گھر میں پلی بڑھی ہوتی ہے جہاں آپ نے زندگی کے ابتدائی دن گزارے۔ وہ آپ کے بچپن کی گواہ ہوتی ہے۔ اسے آپ کی وہ شکل بھی معلوم ہوتی ہے جسے دنیا نے کبھی نہیں دیکھا۔

وہ آپ کی کامیابیوں سے پہلے کی ناکامیوں کو جانتی ہے، آپ کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے آنسوؤں سے واقف ہوتی ہے، آپ کی عادتوں، کمزوریوں، شرارتوں اور خاموشیوں تک سے آشنا ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ انسان کو بار بار یہ وضاحت نہیں کرنی پڑتی کہ:

’’میں کہاں سے آیا ہوں، میں نے کیا دیکھا ہے اور میں ایسا کیوں ہوں؟‘‘

کیونکہ بہن اکثر ان سوالوں کے جواب خود اپنی یادوں میں لیے بیٹھی ہوتی ہے۔

انسانی دماغ دوسروں کے سامنے خود کو سمجھانے، اپنی کیفیت بیان کرنے اور یہ جانچنے میں خاصی ذہنی توانائی صرف کرتا ہے کہ سامنے والا ہمیں قبول کرے گا یا نہیں۔

لیکن ایک قریبی اور محبت کرنے والی بہن کے سامنے یہ دفاعی حصار بہت حد تک خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔

وہاں انسان کو اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

وہاں انسان صرف اپنا آپ ہوتا ہے۔

زندگی کے طوفانوں کے مقابل ایک مضبوط حصار

طویل مدتی مطالعات کے مطابق، محبت کرنے والی دردمند بہن بھائی کا تعلق زندگی کے مشکل مراحل میں اہم نفسیاتی سہارا فراہم کرسکتا ہے۔

زخموں سے جلد سنبھلنے میں مدد

جن لوگوں کو اپنے بہن بھائیوں سے مضبوط جذباتی تعاون حاصل ہو، وہ زندگی کے تلخ واقعات، صدموں، طلاق یا اچانک آنے والی بڑی تبدیلیوں کے بعد نفسیاتی طور پر دوبارہ سنبھلنے میں زیادہ سہارا محسوس کرسکتے ہیں۔

زخم فوراً ختم نہیں ہوتے، مگر کسی کا ساتھ انسان کو زخم کے ساتھ تنہا چلنے سے بچا لیتا ہے۔

بے شرط پناہ گاہ

ایک باشعور بہن کا رشتہ انسان کے لیے ایسی محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے جہاں اسے تنہائی، احساسِ جرم اور اضطراب کے طوفان سے نکلنے کا راستہ ملتا ہے۔

دوست بہت سے ہوسکتے ہیں، تعلقات بھی بہت سے ہوسکتے ہیں، لیکن بہن کے رشتے میں ایک عجیب سی بے تکلفی ہوتی ہے۔

وہ آپ کی کامیابی پر خوش ہوتی ہے تو دل سے خوش ہوتی ہے، آپ کی پریشانی پر فکر مند ہوتی ہے تو اپنے پن کے ساتھ، اور آپ کی غلطی پر ناراض ہوتی ہے تو اس ناراضی کے پیچھے بھی محبت چھپی ہوتی ہے۔

البتہ یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان مثبت نفسیاتی اثرات کا تعلق صحت مند، قریبی اور باہمی احترام پر قائم رشتوں سے ہے۔

جس طرح محبت، اعتماد اور تعاون پر قائم بہن بھائی کا رشتہ انسان کے لیے طاقت اور سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے، اسی طرح مسلسل کشیدگی، بدسلوکی اور غیر صحت مند تعلق ذہنی صحت پر منفی اثر بھی ڈال سکتا ہے۔

اس لیے اصل نعمت صرف ’’بہن کا ہونا‘‘ نہیں بلکہ ایک محبت کرنے والی، سمجھنے والی اور خیال رکھنے والی بہن کا ہونا ہے۔

بہن؛ بچپن کی آخری محفوظ یاد

اگر آپ کی زندگی میں ایک ایسی بہن موجود ہے جس سے آپ اپنے دل کی بات کہہ سکتے ہیں تو شاید آپ کے پاس دنیا کی ان نعمتوں میں سے ایک نعمت موجود ہے جس کی قیمت کسی بازار میں نہیں لگائی جاسکتی۔

بہن وہ رشتہ ہے جو شادی کے بعد گھر بدل لے تو بھی دل نہیں بدلتی۔

وہ دور چلی جائے تو بھی دعاؤں میں قریب رہتی ہے۔

وہ خود ماں بن جائے تو بھی بھائی کے لیے وہی بچپن کی ساتھی رہتی ہے۔

اور بھائی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے، بہن کی نظر میں اس کے اندر کہیں نہ کہیں وہی شرارتی بچہ زندہ رہتا ہے۔

بہن کی محبت کا سب سے خوبصورت پہلو شاید یہی ہے کہ یہ محبت عمر کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، صرف اپنی شکل بدلتی رہتی ہے۔

بچپن میں وہ ساتھ کھیلتی ہے، جوانی میں راز بانٹتی ہے، مشکل وقت میں سہارا دیتی ہے، شادی کے بعد دور رہ کر فکر کرتی ہے اور بڑھاپے میں ماضی کی یادوں کو زندہ رکھتی ہے۔

وہ رشتہ جو کمزور نہیں ہوتا

دنیا میں بہت سے رشتے وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں۔

مصروفیات فاصلے پیدا کردیتی ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، گھر بدل جاتے ہیں، ملاقاتیں کم ہوجاتی ہیں؛ مگر بہن بھائی کی سچی محبت ان فاصلوں کے باوجود دل میں اپنی جگہ قائم رکھ سکتی ہے۔

یہ وہ محبت ہے جس میں بچپن کی شرارتیں بھی ہیں، لڑائیوں کی معصومیت بھی، ماں باپ کی یادیں بھی، ایک ہی چھت کے نیچے گزارے ہوئے دن بھی اور ایک دوسرے کے لیے چھپی ہوئی دعائیں بھی۔

بہن کبھی بھائی کے لیے صرف بہن نہیں رہتی؛ وہ اس کے بچپن کی محافظ، اس کی یادوں کی امین، اس کے دکھوں کی شریک اور اس کی خوشیوں کی خاموش دعا بن جاتی ہے۔

اور بھائی کے لیے بہن بھی صرف گھر کا ایک فرد نہیں ہوتی؛ وہ اس گھر کی وہ خوشبو ہوتی ہے جو گھر سے دور جانے کے بعد بھی دل میں بسی رہتی ہے۔

اس لیے اگر آپ کی زندگی میں ایک بہن موجود ہے تو اسے صرف اپنا رشتہ نہ سمجھیں، اسے اپنی نعمت سمجھیں۔

اس سے بات کریں، اس کا خیال رکھیں، اس کی قدر کریں، اور کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے صرف اتنا کہہ دیں:

’’تم میری زندگی کی ان خوبصورت نعمتوں میں سے ہو جن کا شکریہ میں شاید کبھی مکمل طور پر ادا نہیں کرسکتا۔‘‘

کیونکہ بعض رشتے دوا سے بڑھ کر ہوتے ہیں،

بعض سہارے لفظوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں،

اور بعض محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت، فاصلے اور عمر—تینوں کو شکست دے کر

زندہ رہتی ہیں۔

بہن بھائی کی محبت بھی انہی لازوال محبتوں میں سے ایک ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha